یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے
کلام: محمد رفیع سودا
یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دےدل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دے
اپنی بساط میں تو یہی دل ہے میری جاںلیتا نہیں تو کیا کروں اے یار بھیج دے
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا
مہمان شاعر: محمد رفیع سودا
یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دےدل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دے
اپنی بساط میں تو یہی دل ہے میری جاںلیتا نہیں تو کیا کروں اے یار بھیج دے