غالب کی آواز میں
یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے
کلام: محمد رفیع سودا · محفل: جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا · 2026-02-01
«یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے غالب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دےدل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دے
اپنی بساط میں تو یہی دل ہے میری جاںلیتا نہیں تو کیا کروں اے یار بھیج دے