سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کلام: حیدر علی آتش
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیاکہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سےبخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیاکہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سےبخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا
مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیںوہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیں
نہ تجھے دماغ نگاہ ہے نہ کسی کو تاب جمال ہےانہیں کس طرح سے دکھاؤں میں وہ جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں