5 اشعار

یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے

Ya Rab kahin se garmi-e-bazaar bhej de

یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے

«یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے غالب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دےدل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دے

اپنی بساط میں تو یہی دل ہے میری جاںلیتا نہیں تو کیا کروں اے یار بھیج دے

دعویٰ جو برشگال کو آنکھوں سے ہے مریایسا کوئی جو ابر گہربار بھیج دے

دیتے ہیں عقد حسن میں عاشق عروس جاںآتا نہیں جو آپ تو تلوار بھیج دے

سوداؔ سے غم گسار کا تھا دل یہ تیں لیااس کے عوض بھلا کوئی غم خوار بھیج دے

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں