حسن کی آواز میں
طاق ماضی میں جو رکھے تھے سجا کر چہرے
کلام: نصیر احمد ناصر · محفل: درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر · 2026-11-07
طاق ماضی میں جو رکھے تھے سجا کر چہرےلے گئی تیز ہوا غم کی اڑا کر چہرے
جن کے ہونٹوں پہ طرب خیز ہنسی ہوتی ہےوہ بھی روتے ہیں کتابوں میں چھپا کر چہرے