غزل 5 اشعار

طاق ماضی میں جو رکھے تھے سجا کر چہرے

Taq-e-mazi mein jo rakkhe the saja kar chehre

طاق ماضی میں جو رکھے تھے سجا کر چہرےلے گئی تیز ہوا غم کی اڑا کر چہرے

جن کے ہونٹوں پہ طرب خیز ہنسی ہوتی ہےوہ بھی روتے ہیں کتابوں میں چھپا کر چہرے

کرب کی زرد تکونوں میں کئی ترچھے خطوطکس قدر خوش تھا میں کاغذ پہ بنا کر چہرے

مو قلم لے کے مرے شہر کی دیواروں پرکس نے لکھا ہے ترا نام مٹا کر چہرے

لوگ پھرتے ہیں بھرے شہر کی تنہائی میںسرد جسموں کی صلیبوں پہ اٹھا کر چہرے

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں