انورجمال کی آواز میں
چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
کلام: اکبر اللہ آبادی · محفل: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی) · 2025-12-04
«چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے انورجمال نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔
چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیںآرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیںفالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں