8 اشعار

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

Charkh se kuch ummeed thi hi nahin

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

«چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے انورجمال نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیںآرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیںفالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

چاہتا تھا بہت سی باتوں کومگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں

جرأت عرض حال کیا ہوتینظر لطف اس نے کی ہی نہیں

اس مصیبت میں دل سے کیا کہتاکوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں

آپ کیا جانیں قدر یا اللہجب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں

شرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیامیری کوئی سوسائٹی ہی نہیں

پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیساہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں