چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
کلام: اکبر اللہ آبادی
چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیںآرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیںفالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیںآرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیںفالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں