محمد اویس کی آواز میں
دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے
کلام: محسن زیدی · محفل: بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی · 2026-01-18
«دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے محمد اویس نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دےچاروں طرف بس ایک سمندر دکھائی دے
گھر پر نظر کروں تو بیابان سا لگےاور دشت بے کنار مجھے گھر دکھائی دے