دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے
کلام: محسن زیدی
دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دےچاروں طرف بس ایک سمندر دکھائی دے
گھر پر نظر کروں تو بیابان سا لگےاور دشت بے کنار مجھے گھر دکھائی دے
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دےچاروں طرف بس ایک سمندر دکھائی دے
گھر پر نظر کروں تو بیابان سا لگےاور دشت بے کنار مجھے گھر دکھائی دے
کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہےکسی کے ساتھ دریا جا رہا ہے
یہ بستی بھی نہ کیا راس آئی اس کواٹھا کر کیوں وہ خیمہ جا رہا ہے