7 اشعار

دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے

Deewar ab kahin na koi dar dikhayi de

دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے

«دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے محمد اویس نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دےچاروں طرف بس ایک سمندر دکھائی دے

گھر پر نظر کروں تو بیابان سا لگےاور دشت بے کنار مجھے گھر دکھائی دے

خوابوں کے درمیان ہے مدت سے ایک جنگمیدان کارزار نہ لشکر دکھائی دے

یہ کیا کہ پھر بھی جسم ہے اپنا لہو لہانآتا ہوا کہیں سے نہ پتھر دکھائی دے

ہر شام زندگی کا نیا خواب لے کے آئےہر صبح اپنی موت کا منظر دکھائی دے

اس طرح پڑھ رہے ہیں وہ تحریر ہاتھ کیہاتھوں میں جیسے میرا مقدر دکھائی دے

تیر و کمان آپ بھی محسنؔ سنبھالیےجب دوستی کی آڑ میں خنجر دکھائی دے

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں