راشد نور کی آواز میں
توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا
کلام: حیدر علی آتش · محفل: صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش · 2026-01-22
«توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے راشد نور نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔
توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہاخاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا
کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامان یارکب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا