5 اشعار

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا

Tod kar taar-e-nigah ka silsila jaata raha

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا

«توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے راشد نور نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہاخاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا

کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامان یارکب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا

خار صحرا پر کسی نے تہمت دزدی نہ کیپاؤں کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا

دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پردل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا

جب اٹھایا پاؤں آتشؔ مثل آواز جرسکوسوں پیچھے چھوڑ کر میں قافلہ جاتا رہا

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں