صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی
کلام: حیدر علی آتش
صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئیدیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی
آنکھوں کو کھول اگر تو دیدار کا ہے بھوکاچودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئیدیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی
آنکھوں کو کھول اگر تو دیدار کا ہے بھوکاچودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی
توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہاخاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا
کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامان یارکب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا