مقرر · کو ہوسٹ

سحر

@samren786

12
پیش کردہ کلام
22
محفلوں میں شرکت
سحر کی آواز میں

زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں

کلام: ظفراقبال · محفل: مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال) · 2025-12-05

«زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میںہوں مختلف بھی اس میں پھنسا بھی ہوا ہوں میں

جو اہل شہر کو کسی صورت نہیں ہے راسایسی یہاں پہ آب و ہوا بھی ہوا ہوں میں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ہم گنہ گار عورتیں ہیں Hum gunah-gar auraten hain کشور ناہید آواز میں دستیاب
  2. 02 خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے Khwab mein aaye mujhe mujh se milaye کشور ناہید آواز میں دستیاب
  3. 03 کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے Kuchh tujh ko khabar hai hum kya kya ae shorish-e-dauraan bhool gaye اسرار الحق مجاز آواز میں دستیاب
  4. 04 سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں Seene mein un ke jalwe chhupaye hue to hain اسرار الحق مجاز آواز میں دستیاب
  5. 05 جدھر دیکھتی ہوں اُدھر تم ہی تم ہو Jidhar dekhti hoon udhar tum hi tum ho نا معلوم آواز میں دستیاب
  6. 06 دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہے Dil Ke Behlane Ki Tadbir To Hai شکیل بدیوانی آواز میں دستیاب
  7. 07 رقاصۂ حیات سے Raqqasa-e-Hayat Se شکیل بدیوانی آواز میں دستیاب
  8. 08 تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا Tujh ko paas-e-wafa zara na hua حسرت موہانی آواز میں دستیاب