سحر کی آواز میں
زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں
کلام: ظفراقبال · محفل: مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال) · 2025-12-05
«زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔
زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میںہوں مختلف بھی اس میں پھنسا بھی ہوا ہوں میں
جو اہل شہر کو کسی صورت نہیں ہے راسایسی یہاں پہ آب و ہوا بھی ہوا ہوں میں