ہم گنہ گار عورتیں ہیں
کلام: کشور ناہید
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیںجو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں
نہ جان بیچیںنہ سر جھکائیں
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیںجو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں
نہ جان بیچیںنہ سر جھکائیں
خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائےمجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے
خواب وہ خواب کہ ہو جس تمازت کا فسوں زادخواب وہ خواب کہ بن جائے شکست بے داد