زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں
کلام: ظفراقبال
زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میںہوں مختلف بھی اس میں پھنسا بھی ہوا ہوں میں
جو اہل شہر کو کسی صورت نہیں ہے راسایسی یہاں پہ آب و ہوا بھی ہوا ہوں میں
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میںہوں مختلف بھی اس میں پھنسا بھی ہوا ہوں میں
جو اہل شہر کو کسی صورت نہیں ہے راسایسی یہاں پہ آب و ہوا بھی ہوا ہوں میں