9 اشعار

زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں

Zinda bhi khalq mein hoon mara bhi hua hoon main

زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں

«زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میںہوں مختلف بھی اس میں پھنسا بھی ہوا ہوں میں

جو اہل شہر کو کسی صورت نہیں ہے راسایسی یہاں پہ آب و ہوا بھی ہوا ہوں میں

آزردہ کیوں ہیں اب مرے شیون پہ اہل باغکچھ دن یہاں پہ نغمہ سرا بھی ہوا ہوں میں

ان بارشوں کی مجھ کو تمنا بھی تھی بہتدیوار سے ذرا سا مٹا بھی ہوا ہوں میں

رہتا ہوں دور اس کے دل نرم سے مگرپتھر کی طرح اس میں جڑا بھی ہوا ہوں میں

زندہ ہوں پھر بھی ایک امید بہار پرپتا ہوں اور شجر سے جھڑا بھی ہوا ہوں میں

رہتا نہیں ہوں بوجھ کسی پر زیادہ دیرکچھ قرض تھا اگر تو ادا بھی ہوا ہوں میں

رکھنے لگے ہیں کچھ نظر انداز بھی یہ لوگمنظر سے اپنے آپ ہٹا بھی ہوا ہوں میں

اک دور کے سفر پہ روانہ بھی ہوں ظفرؔسست الوجود گھر میں پڑا بھی ہوا ہوں میں

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں