دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
کلام: آرزو لکھنوی
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں
آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوںدل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں
آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوںدل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں