7 اشعار

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں

Dil mein yaad-e-but-e-be-pīr liye baiṭhā huun

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں

«دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں

آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوںدل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں

اک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈجیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں

ہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دلپردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں

چور شیشے پہ نظر پڑتے ہی دل یاد آیامٹنے والے تری تصویر لیے بیٹھا ہوں

قید کو توڑ کے سمجھا کہ سہارا توڑاہاتھ میں پاؤں کی زنجیر لیے بیٹھا ہوں

آرزوؔ ہو چکی سو مرتبہ دنیا بیداراور میں سوئی ہوئی تقدیر لیے بیٹھا ہوں

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں