سجاد رضا کی آواز میں
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
کلام: قتیل شفائی · محفل: اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی) · 2025-11-28
«دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھااس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
سرخ آہن پر ٹپکتی بوند ہے اب ہر خوشیزندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسایا نہ تھا