9 اشعار

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

Door tak chhaye the badal aur kahin saaya na tha

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

«دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھااس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

سرخ آہن پر ٹپکتی بوند ہے اب ہر خوشیزندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسایا نہ تھا

کیا ملا آخر تجھے سایوں کے پیچھے بھاگ کراے دل ناداں تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا

اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جس میں مخلزندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا

خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہمحال دل کہنے کے قابل کوئی ہم سایہ نہ تھا

ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹیپاس اپنے اور تو کوئی بھی سرمایہ نہ تھا

وہ پیمبر ہو کہ عاشق قتل گاہ شوق میںتاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا

اب کھلا جھونکوں کے پیچھے چل رہی تھیں آندھیاںاب جو منظر ہے وہ پہلے تو نظر آیا نہ تھا

صرف خوشبو کی کمی تھی غور کے قابل قتیلؔورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں