میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا
کلام: قتیل شفائی
میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گاآئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گا
پوچھ سکے تو پوچھے کوئی روٹھ کے جانے والوں سےروشنیوں کو میرے گھر کا رستہ کون بتائے گا
اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)
مہمان شاعر: قتیل شفائی
میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گاآئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گا
پوچھ سکے تو پوچھے کوئی روٹھ کے جانے والوں سےروشنیوں کو میرے گھر کا رستہ کون بتائے گا
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھااس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
سرخ آہن پر ٹپکتی بوند ہے اب ہر خوشیزندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسایا نہ تھا