سجاد رضا کی آواز میں
کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے
کلام: شکیل بدیوانی · محفل: اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی) · 2025-12-08
«کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔
کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے
کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماںمجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے