کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے
کلام: شکیل بدیوانی
کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے
کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماںمجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)
مہمان شاعر: شکیل بدیوانی
کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے
کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماںمجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے
محبت کی حقیقتمحبت بے غرض یا خودغرض ھے
محبت بے ریا یا بس ریا ھےیہ ھے بے لوث یا ھے لوث پرور