7 اشعار

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

Koi Aarzoo Nahin Hai Koi Mudda Nahin Hai

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

«کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے

کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماںمجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے

تو بچائے لاکھ دامن مرا پھر بھی ہے یہ دعویٰترے دل میں میں ہی میں ہوں کوئی دوسرا نہیں ہے

تمہیں کہہ دیا ستمگر یہ قصور تھا زباں کامجھے تم معاف کر دو مرا دل برا نہیں ہے

مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دےیہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

یہ اداس اداس چہرے یہ حسیں حسیں تبسمتری انجمن میں شاید کوئی آئنا نہیں ہے

مری آنکھ نے تجھے بھی بہ خدا شکیلؔ پایامیں سمجھ رہا تھا مجھ سا کوئی دوسرا نہیں ہے

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں