خوشی کی آواز میں
رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں
کلام: مظفر وارثی · محفل: شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی) · 2025-12-18
«رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے خوشی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔
رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیںاک درویش کی قبر پہ جیسے رقاصائیں آتی ہیں
سادہ لوحی کی نبٹے گی اس رنگین زمانے سےدو آنکھوں کا پیچھا کرنے لاکھ ادائیں آتی ہیں