اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا
کلام: بہزاد لکھنوی
اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیاخود دل کو بے قرار کیا ہائے کیا کیا
معلوم تھا کہ عہد وفا ان کا جھوٹ ہےاس پر بھی اعتبار کیا ہائے کیا کیا
یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی
مہمان شاعر: بہزاد لکھنوی
اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیاخود دل کو بے قرار کیا ہائے کیا کیا
معلوم تھا کہ عہد وفا ان کا جھوٹ ہےاس پر بھی اعتبار کیا ہائے کیا کیا