میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا
کلام: مظفر وارثی
میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیااس کے بغیر میں بھی کوئی مر نہیں گیا
دنیا میں گھوم پھر کے بھی ایسے لگا مجھےجیسے میں اپنی ذات سے باہر نہیں گیا
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیااس کے بغیر میں بھی کوئی مر نہیں گیا
دنیا میں گھوم پھر کے بھی ایسے لگا مجھےجیسے میں اپنی ذات سے باہر نہیں گیا
رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیںاک درویش کی قبر پہ جیسے رقاصائیں آتی ہیں
سادہ لوحی کی نبٹے گی اس رنگین زمانے سےدو آنکھوں کا پیچھا کرنے لاکھ ادائیں آتی ہیں
ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتاموجوں کے لئے کوئی کنارا نہیں ہوتا
دل ٹوٹ بھی جائے تو محبت نہیں مٹتیاس راہ میں لٹ کر بھی خسارا نہیں ہوتا