6 اشعار

رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں

Raat gaye yun dil ko jaane sard hawain aati hain

رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں

«رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے خوشی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیںاک درویش کی قبر پہ جیسے رقاصائیں آتی ہیں

سادہ لوحی کی نبٹے گی اس رنگین زمانے سےدو آنکھوں کا پیچھا کرنے لاکھ ادائیں آتی ہیں

ڈھونڈھ رہی ہے میرے تن میں شاید میری روح مجھےاپنے سناٹوں سے کچھ مانوس صدائیں آتی ہیں

میرا اک اک لمحہ کرب لیے پھرتا ہے صدیوں کااک دنیا کے رستے میں کتنی دنیائیں آتی ہیں

پہلے سر سے اونچی لہروں سے بھی ہم لڑ لیتے تھےاب تو ان سوکھے ہونٹوں پر صرف دعائیں آتی ہیں

دشت نوردی کے دوران مظفرؔ سر پر دھوپ رہیجب سے کشتی میں بیٹھے ہیں روز گھٹائیں آتی ہیں

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں