9 اشعار

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

Uzr aane mein bhi hai aur bulate bhi nahin

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

«عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں» داغ دہلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیںباعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیںپھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں

سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہینشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیرینہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیںصاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہےتجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں

دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہواکون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں

ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوںجن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہوجان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

— داغ دہلوی