6 اشعار

ہم خود کو پکاریں بھی تو اکثر نہیں آتے

Hum khud ko pukarein bhi to aksar nahin aate

ہم خود کو پکاریں بھی تو اکثر نہیں آتے

«ہم خود کو پکاریں بھی تو اکثر نہیں آتے» فیصل محمود کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

ہم خود کو پکاریں بھی تو اکثر نہیں آتےاندر ہی پڑے رہتے ہیں باہر نہیں آتے

لاتے ہیں کسی اشک محبت کا سندیسہایسے تو تری چھت پہ کبوتر نہیں آتے

میں گرد سفر اوڑھ کے لوٹا ہوں تری سمتورنہ مرے جیسے کبھی مڑ کر نہیں آتے

اک سوچ ہمیں کھینچ کے لائی ہے یہاں تککچھ سوچ کے دہلیز کے اندر نہیں آتے

یہ میں ہوں شب تار ہے یہ جلتا ہوا دلاب خواب تمھارے مجھے یکسر نہیں آتے

ہم خود کو پکاریں بھی تو اکثر نہیں آتےاندر ہی پڑے رہتے ہیں باہر نہیں آتے

— فیصل محمود