Faisal Mehmood
ہم خود کو پکاریں بھی تو اکثر نہیں آتے
اندر ہی پڑے رہتے ہیں باہر نہیں آتے
یہ سائٹ آپ کے تجربے کو بہتر بنانے اور اشتہارات کے لیے کوکیز استعمال کرتی ہے۔ مزید جانیں