6 اشعار

تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے

Takhayyul aur hai, nadīda beeni aur hoti hai

تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے

«تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے» عرفان ستار کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہےیہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے

عجب دھڑکا لگا رہتا ہے دل کو اُس کی فرقت میںمگر وہ پاس ہو تو بے یقینی اور ہوتی ہے

سیہ چشمی حسینوں کی تو ویسے بھی قیامت ہےمگر پاس ِ حیا کی سرمگینی اور ہوتی ہے

گریز اُس کا بجائے خود ادائے خاص ہے لیکنخمار ِ وصل کی نازآفرینی اور ہوتی ہے

نہیں مشروط کار ِ عاشقاں ترک ِ سکونت سےمیاں، اہل ِ جنوں کی نامکینی اور ہوتی ہے

ہمیں ویسے تو یہ اہل ِ جہاں کیا کچھ نہیں کہتےمگر احباب ِ دل کی نکتہ چینی اور ہوتی ہے

— عرفان ستار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں