تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے
کلام: عرفان ستار
تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہےیہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے
عجب دھڑکا لگا رہتا ہے دل کو اُس کی فرقت میںمگر وہ پاس ہو تو بے یقینی اور ہوتی ہے
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہےیہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے
عجب دھڑکا لگا رہتا ہے دل کو اُس کی فرقت میںمگر وہ پاس ہو تو بے یقینی اور ہوتی ہے