7 اشعار

ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھ

Zehen ho tang to phir shokhi-e-afkar na rakh

ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھ

«ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھ» عرفان صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھبند تہہ خانوں میں یہ دولت بیدار نہ رکھ

زخم کھانا ہی جو ٹھہرا تو بدن تیرا ہےخوف کا نام مگر لذت آزار نہ رکھ

ایک ہی چیز کو رہنا ہے سلامت پیارےاب جو سر شانوں پہ رکھا ہے تو دیوار نہ رکھ

خواہشیں توڑ نہ ڈالیں ترے سینے کا قفساتنے شہ زور پرندوں کو گرفتار نہ رکھ

اب میں چپ ہوں تو مجھے اپنی دلیلوں سے نہ کاٹمیری ٹوٹی ہوئی تلوار پہ تلوار نہ رکھ

آج سے دل بھی ترے حال میں ہوتا ہے شریکلے یہ حسرت بھی مری چشم گنہ گار نہ رکھ

وقت پھر جانے کہاں اس سے ملا دے تجھ کواس قدر ترک ملاقات کا پندار نہ رکھ

— عرفان صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں