یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے
یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوےاگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوے
نہ جا گلشن میں بلبل کو خجل مت کر کہ ڈرتا ہوںیہ دامن دیکھ کر گل کا گریباں چاک ہو جاوے
دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین
مہمان شاعر: انعام اللہ خاں یقین
یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوےاگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوے
نہ جا گلشن میں بلبل کو خجل مت کر کہ ڈرتا ہوںیہ دامن دیکھ کر گل کا گریباں چاک ہو جاوے
محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالیکہ جوں فانوس دل کی شمع بن ہے پیرہن خالی
رہے کب ہوں گے اب تک بستیوں میں نقش شیریں کےدل اپنا کس سے کرتا ہوگا یاروں کوہ کن خالی
خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھجمع آسائش کہاں ہوتی ہے بیتابی کے ساتھ
کر دیا آنکھوں کے رونے نے مرے دل کو خنککب تلک گرمی کروں اس مردم آبی کے ساتھ
ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھبند تہہ خانوں میں یہ دولت بیدار نہ رکھ
زخم کھانا ہی جو ٹھہرا تو بدن تیرا ہےخوف کا نام مگر لذت آزار نہ رکھ
خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیںشہر سے جائے گا عشاق کے سینوں سے نہیں
تو نے لڑتے ہوئے گالی کا سہارا لیا تھاصلح انسان سے کرتا ہوں کمینوں سے نہیں