4 اشعار

چھتری دل کا ایک سپاہی

Chhatri Dil ka Ek Sipaahi

بھاری جسموں کو اگلتا اک جہازگیند کے مانند پاس آتی زمیں

ایک کے بعد ایک کھلتی چھتریاںاک پہاڑی سے اترتی بکریاں

تیز زہریلی ہوا چلتی ہوئیایک بستی آگ میں جلتی ہوئی

سوچتا ہوں لوٹ ہی جاؤں مگرگر رہا ہوں لوٹ کے جاؤں کدھر

— محمد علوی