13 اشعار

رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھا

Raat ke haathon mein chandni ka saboo tha

رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھا

«رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھا» قاسم کاہلوانہ کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھاروشنی کے قدموں میں اندھیروں کا لہو تھا

گھر میں بیٹھے ایسے ہی خیال آیاجنوں کی آوارہ سی آنکھوں میں جلال آیا

اک سنسان راستے پہ محو سفر تھا میںاپنی مستی میں جہاں سے بے خبر تھا میں

دیکھا تو میری راہ میں اک چیز پڑی تھیشائد کسی راہگیر کے ہاتھوں سے گری تھی

کچھ دیر تو اسے دیکھا میں نے رک کربس اٹھانے ہی والا تھا جھک کر

ایسے میں صدا آئی نہ ہاتھ لگانا مجھ کوبرباد ہو جاو گے ہر گز نہ اٹھانا مجھکو

حیراں ہو کہ پوچھا تم چیز کیا ہومٹی کا ہو کر پیکر یا معجزہ خدا ہو

جو کچھ بھی ہو آخر بولتے کیوں نہیں ہوراز اپنی حقیقت کا کھولتے کیوں نہیں ہو

سن کے میرا سوال یوں بول دیا اس نےراز اپنی حقیقت کا پھر کھول دیا اس نے

کہنے لگا مجھے غور سے دیکھو بہت زرد ہوں میںنام میرا تو سنا ہو گا درد ہوں میں

ترس کھا کے اسے راستے سے اٹھا لیا میں نےدل کے مہماں خانے میں اسے بسا لیا میں نے

عجب مہماں ہے جانے کا نام نہیں لیتاکسی اور مہماں خانے کا نام نہیں لیتا

اسی روز سے قاسم میری چشم تر میں رہتا ہےمیرے دل کو گھر سمجھتا ہے اور گھر میں رہتا ہے

— قاسم کاہلوانہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں