نذر دل
کلام: اسرار الحق مجاز
اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میںکیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میں
کون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہےخود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میں
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)
مہمان شاعر: اسرار الحق مجاز
اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میںکیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میں
کون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہےخود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میں
رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھاروشنی کے قدموں میں اندھیروں کا لہو تھا
گھر میں بیٹھے ایسے ہی خیال آیاجنوں کی آوارہ سی آنکھوں میں جلال آیا