18 اشعار

مقصدیت

Maqsadiyat

مقصدیت

«مقصدیت» صائمہ آفتاب کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 56 سیکنڈ ہے۔

مرے پیارے خداوندامجھے جب کن کی ساعت میں

ترے بے عیب یکتا دست قدرت نےترے آدم کی باقی بچ رہی مٹی سے گوندھا تھا

مرا نقشہ بنایا تھاتو مجھ میں کیا ترے آدم سے کمتر روح پھونکی تھی

کہ جیسے بے دلی عجلت میں کوئی کام نمٹایامری تخلیق کیا خالق

تری چشم تصور کیکسی منصوبہ سازی کی نہیں مرہون منت بھی

مجھے پیدا کیا تو نے کسی دوجے کی خاطر کیاتری حکمت کے سارے کارخانوں میں

نہیں کچھ تذکرہ میرامجھی پر تہمت اول ہے آدم کے بھٹکنے کی

اسی دن سے یہ آدم جب کبھی بھٹکا ہے اے مولاتمام الزام میری ذات سے منسوب رہتا ہے

زمیں پہ میں ترے نائب کی نائب ہوںاسی کی ہر ضرورت کا میں ساماں ہوں

مجھے اب زندگی بھر ایک سایہ بن کے جینا ہےکسی آدم کی خواہش اور مرضی میں ڈھلا

اک عکس بن کر زندہ رہنا ہےمرے تخلیق ہونے کی یہی کیا مقصدیت ہے

مرے پیارے خداوندا مجھے کیونکر نہ جانےاپنے بے وقعت فسانے کے حوالوں میں

کہیں پر جھول لگتا ہے یہ قصہ کچھ عجب سا ہےکہ ارض و عرش کا مالک جو ہے انصاف کا خالق

وہ اتنی بے رخی بے اعتنائی کیسے برتے گاوہ خود کامل ہے پھر ناقص یہ پیکر کیوں تراشے گا

کسی کی دل لگی میں کیوں مجھے دنیا میں لائے گامجھے ایسا بھی لگتا ہے

کہ یہ گتھی بہت پر پیچ فرسودہ خیالوں کیکبھی تو حل بھی ہونی ہے

اور اس اندھیر نگری میںازل سے کمتری کا بوجھ ڈھوتی بنت حوا کی

درخشاں کل بھی ہونی ہے

— صائمہ آفتاب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں