میں بچ گئی ماں
کلام: زہرا نگاہ
میں بچ گئی ماںمیں بچ گئی ماں
ترے کچے لہو کی مہندیمرے پور پور میں رچ گئی ماں
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
میں بچ گئی ماںمیں بچ گئی ماں
ترے کچے لہو کی مہندیمرے پور پور میں رچ گئی ماں
چلو اس کوہ پر اب ہم بھی چڑھ جائیںجہاں پر جا کے پھر کوئی بھی واپس نہیں آتا
سنا ہے اک ندائے اجنبی باہوں کو پھیلائےجو آئے اس کا استقبال کرتی ہے
سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز کا تھاکہیں پر راہ بھولے تھے نہ رک کر دم لیا تھا
زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدیاندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا
مرے پیارے خداوندامجھے جب کن کی ساعت میں
ترے بے عیب یکتا دست قدرت نےترے آدم کی باقی بچ رہی مٹی سے گوندھا تھا