22 اشعار

بہت دنوں کی بات ہے

Bahut dino'n ki baat hai

بہت دنوں کی بات ہے

«بہت دنوں کی بات ہے» سلام شہری مچھلی کا کلام ہے، جسے حسن شبیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

بہت دنوں کی بات ہےفضا کو یاد بھی نہیں

یہ بات آج کی نہیںبہت دنوں کی بات ہے

شباب پر بہار تھیفضا بھی خوش گوار تھی

نہ جانے کیوں مچل پڑامیں اپنے گھر سے چل پڑا

کسی نے مجھ کو روک کرتری ادا سے ٹوک کر

کہا تھا لوٹ آئیےمری قسم نہ جائیے

نہ جائیے نہ جائیےمجھے مگر خبر نہ تھی

ماحول پر نظر نہ تھینہ جانے کیوں مچل پڑا

میں اپنے گھر سے چل پڑامیں چل پڑا میں چل پڑا

میں شہر سے پھر آ گیاخیال تھا کہ پا گیا

اسے جو مجھ سے دور تھیمگر مری ضرور تھی

اور اک حسین شام کومیں چل پڑا سلام کو

گلی کا رنگ دیکھ کرنئی ترنگ دیکھ کر

مجھے بڑی خوشی ہوئیمیں کچھ اسی خوشی میں تھا

کسی نے جھانک کر کہاپرائے گھر سے جائیے

مری قسم نہ آئیےنہ آئیے نہ آئیے

وہی حسین شام ہےبہار جس کا نام ہے

چلا ہوں گھر کو چھوڑ کرنہ جانے جاؤں گا کدھر

کوئی نہیں جو ٹوک کرکوئی نہیں جو روک کر

کہے کہ لوٹ آئیےمری قسم نہ جائیے

بہت دنوں کی بات ہےفضا کو یاد بھی نہیں

یہ بات آج کی نہیںبہت دنوں کی بات ہے

— سلام شہری مچھلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں