شارق کیفی — شاعر کی تصویر

آج اکٹھا کر کے عشق کے ماروں کو — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

آج اکٹھا کر کے عشق کے ماروں کو

آج اکٹھا کر کے عشق کے ماروں کو
گھیر لیا ہے ہم نے دنیا داروں کو
ساتھ کے سارے قیدی ایسا کہتے تھے
ہم نے بھی گھر مان لیا دیواروں کو
اچھے ہو کر لوٹ گئے سب گھر لیکن
موت کا چہرہ یاد رہا بیماروں کو
دھار کو پرکھا زنگ کے دھبے صاف کیے
پھر بیٹھک میں ٹانگ دیا تلواروں کو
جاؤ اپنے حصے کے تم عیش کرو
عشق میں ہم بھی بھول گئے تھے یاروں کو
میرے علاوہ کون جگانے آتا ہے
پچھلے پہر کے سوئے ہوئے بازاروں کو
صبح کا مطلب صبح کا پہلا سگریٹ تھا
وہ بھی اب لا حاصل ہے بیماروں کو

aaj ikaTTha kar ke ishq ke maron ko

aaj ikaTThā kar ke 'ishq ke māroñ ko
gher liyā hai ham ne duniyā-dāroñ ko
saath ke saare qaidī aisā kahte the
ham ne bhī ghar maan liyā dīvāroñ ko
achchhe ho kar lauT ga.e sab ghar lekin
maut kā chehra yaad rahā bīmāroñ ko
dhaar ko parkhā zang ke dhabbe saaf kiye
phir baiThak meñ Taañg diyā talvāroñ ko
jaao apne hisse ke tum ‘aish karo
'ishq meñ ham bhī bhuul ga.e the yāroñ ko
mere 'alāva kaun jagāne aatā hai
pichhle pahar ke so.e hue bāzāroñ ko
sub.h kā matlab sub.h kā pahlā cigarette thā
vo bhī ab lā-hāsil hai bīmāroñ ko

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام