شارق کیفی — شاعر کی تصویر

آزادی — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

آزادی

گلا بیٹھ جانے کے ڈر سے کبھی
ایک انگور چکھا نہیں
برانڈ سگریٹ کا بدلہ نہیں
سیخ پر جل گئے میرے حصے کے سارے کباب
پھر بھی سب سے بڑا خوف سچ ہو گیا
خیر جو بھی ہوا
اب میں آزاد ہوں
آج فروٹی پیوں گا
گلے کی سکائی کے بعد
آج فروٹی پیوں گا
اب یہ وہم
احتیاطیں یہ ڈر
ان کے سر
جن کی بیماریاں
چھپ کے کاغذ پہ آئی نہیں ہیں ابھی

aazadi

galā baiTh jaane ke Dar se kabhī
ek angūr chakkhā nahīñ
brand cigarette kā badla nahīñ
siiḳh par jal ga.e mere hisse ke saare kabāb
phir bhī sab se baḌā ḳhauf sach ho gayā
ḳhair jo bhī huā
ab maiñ āzād huuñ
aaj frōti piyūñgā
gale kī sikā.ī ke baa'd
aaj ftrōti piyūñgā
ab ye vahm
ehtiyāteñ ye Dar
un ke sar
jin kī bīmāriyāñ
chhap ke kāġhaz pe aa.ī nahīñ haiñ abhī

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام