شارق کیفی — شاعر کی تصویر

مگر اٹھ کر کروں کیا — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

مگر اٹھ کر کروں کیا

سویرے
منہ اندھیرے چھوڑنا بستر
نہیں مشکل کچھ ایسا
مگر اٹھ کر کروں کیا
کوئی ہے ہی نہیں ایسا جسے عادت ہو میری
اور مرے گھر پر نہ ہونے سے
پہاڑ ہو جائے دن جس کا
یہی تو دکھ ہے میرا
مرے مصروف ہونے سے کوئی خالی نہیں ہوتا

magar uTh kar karun kya

savere
muñh añdhere chhoḌnā bistar
nahīñ mushkil kuchh aisā
magar uTh kar karūñ kyā
koī hai hī nahīñ aisā jise 'ādat ho merī
aur mire ghar par na hone se
pahāḌ ho jaa.e din jis kā
yahī to dukh hai merā
mire masrūf hone se koī ḳhālī nahīñ hotā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام