آپ کو ایسے نہ کھونا تھا ہمیں
تھوڑا دنیا دار ہونا تھا ہمیں
حال پر ہنستے تھے جن کے آج تک
اب انہیں کے ساتھ رونا تھا ہمیں
قبر بھی اس کی کہیں باقی نہ تھی
جس کی بیماری کو ڈھونا تھا ہمیں
خود کشی کرنے تو ہم آئے نہ تھے
پھر یہاں کس کو ڈبونا تھا ہمیں
یہ کوئی اتنی بڑی خواہش نہ تھی
دیر تک اک روز سونا تھا ہمیں
بے سبب اس کو بہانہ دے دیا
وقت سے تیار ہونا تھا ہمیں
آپ کے نخروں کو بھی دینا تھا وقت
اور زمانے کا بھی ہونا تھا ہمیں
تو گیا تو رہ گیا وہ داغ بھی
وہ جسے مل جل کے دھونا تھا ہمیں
شارق کیفی
aap ko aise na khonā thā hameñ
thoḌā duniyā-dār honā thā hameñ
haal par hañste the jin ke aaj tak
ab unhīñ ke saath ronā thā hameñ
qabr bhī us kī kahīñ baaqī na thī
jis kī bīmārī ko Dhonā thā hameñ
ḳhud-kushī karne to ham aa.e na the
phir yahāñ kis ko Dubonā thā hameñ
ye koī itnī baḌī ḳhvāhish na thī
der tak ik roz sonā thā hameñ
be-sabab us ko bahāna de diyā
vaqt se tayyār honā thā hameñ
aap ke naḳhroñ ko bhī denā thā vaqt
aur zamāne kā bhī honā thā hameñ
tū gayā to rah gayā vo daaġh bhī
vo jise mil-jul ke dhonā thā hameñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں