شارق کیفی — شاعر کی تصویر

اچانک ہو گئیں نکتے کی باتیں — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

اچانک ہو گئیں نکتے کی باتیں

اچانک ہو گئیں نکتے کی باتیں
ہمارے درمیاں پیسے کی باتیں
اچانک گفتگو نے رنگ بدلا
نکل آئیں بہت پہلے کی باتیں
جہاں ہر وقت کوئی مر رہا ہو
وہاں کرتے نہیں مرنے کی باتیں
بہانے سے سنایا حال اپنا
ہوئی تجھ سے ترے جیسے کی باتیں
نہ گھر جانے کی اب جلدی ہے کوئی
نہ گھر کو چھوڑ کر جانے کی باتیں
جو ساحل پر ہیں ان کا دکھ بھی سمجھو
ہمیشہ ڈوبنے والے کی باتیں

achanak ho gain nukte ki baaten

achānak ho ga.iiñ nukte kī bāteñ
hamāre darmiyāñ paise kī bāteñ
achānak guftugū ne rang badlā
nikal aa.iiñ bahut pahle kī bāteñ
jahāñ har vaqt koī mar rahā ho
vahāñ karte nahīñ marne kī bāteñ
bahāne se sunāyā haal apnā
huī tujh se tire jaise kī bāteñ
na ghar jaane kī ab jaldī hai koī
na ghar ko chhoḌ kar jaane kī bāteñ
jo sāhil par haiñ un kā dukh bhī samjho
hamesha Dūbne vaale kī bāteñ

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام