اچانک مل گئیں روحیں ہماری کل
بہت باتیں ہوئیں مرنے سے پہلے کی
کسی گولی سے بڑھ کر جان لیوا ہے
یہ مایوسی رصد آنے سے پہلے کی
نہیں جاتی لڑکپن کی وہ ہکلاہٹ
پہاڑا یاد ہو جانے سے پہلے کی
نہیں اس سے حسیں کچھ بھی نہیں شاید
زمیں آباد ہو جانے سے پہلے کی
اگر زندوں کو بھی دیکھو تو لگتا ہے
یہ تصویریں ہیں کھو جانے سے پہلے کی
شارق کیفی
achānak mil ga.iiñ rūheñ hamārī kal
bahut bāteñ huiiñ marne se pahle kī
kisī golī se baḌh kar jān-levā hai
ye māyūsī rasad aane se pahle kī
nahīñ jaatī laḌakpan kī vo haklāhaT
pahāḌā yaad ho jaane se pahle kī
nahīñ is se hasīñ kuchh bhī nahīñ shāyad
zamīñ ābād ho jaane se pahle kī
agar zindoñ ko bhī dekho to lagtā hai
ye tasvīreñ haiñ kho jaane se pahle kī
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں